لاہور: ماڈل ٹاؤن میں ڈاکٹر طاہر القادری کے حامیوں پر فائرنگ کا حکم کس نے دیا؟ یہ وہ سوال ہے جو منگل کو دن بھر گردش کرتا رہا لیکن پولیس کی جانب سے کوئی سیدھا جواب نہیں آیا۔
آپریشن کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی سے اجتناب پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صوبے کی 'اعلیٰ ترین' شخصیت نے ہی شاید اس آپریشن کی 'منظوری' دی ہو۔
پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے چیئر مین طاہر القادری کی رہائش گاہ اور قریب ہی واقع منہاج القرآن سیکریٹریٹ کے اندر اور اطراف میں انسداد تجاوزات سے جڑے سینئر پولیس حکام نے دفاعی حکمت عملی اختیار کی۔
ان حکام نے پی اے ٹی کے کارکنوں کوسارے واقعہ کا ذمہ دارٹھراتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نا صرف آپریشن کی مزاحمت کی بلکہ پولیس اہلکاروں پر حملے بھی کیے۔
کیپٹل سٹی پولیس افسر (سی سی پی او) چوہدری شفیق احمد نے صحافیوں کو بتایا کہ پولیس پی اے ٹی کے کارکنوں کے سامنے کئی گھنٹوں تک دفاعی پوزیشن میں رہی۔
لاہور میں جھڑپ کا واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ڈاکٹر قادری نے ملک گیر احتجاج کا سلسلہ شروع کرنے کے لیے تئیس جون کو پاکستان آنے کا اعلان کر رکھا ہے۔
اس وجہ نے پی اے ٹی کے کارکنوں کے لیے آسان بنا دیا کہ وہ انسداد تجاوزات کے آپریشن کو سیاسی کہہ سکیں۔
تاہم ، آپریشن کی سربراہی کرنے والے پولیس افسران نے اس تاثر کو یہ کہہ کر رد کردیا کہ یہ پی اے ٹی کے خلاف پہلے سے طے شدہ منصوبہ تھا۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ وہ پی اے ٹی کی حدود کی جانب والے راستوں سے رکاوٹیں ہٹانے میں محض لاہور شہر کی ضلعی حکومت (سی ڈی جی ایل) کی مدد کر رہے تھے۔
انسداد تجاوزات کی یہ کارروائی حیرت انگیز طور پر رات کے اندھیرے میں کی گئی جبکہ ایسے آپریشن عموماً دن کی روشنی میں کیے جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ سی ڈی جی ایل عملے کے ساتھ پولیس کی بڑی تعداد کا آنا بھی غیر معمولی بات تھی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس پورے واقعہ میں ایک بھی پولیس اہلکار کو فوری طور پر مجرمانہ غفلت پر ذمہ دار نہیں ٹہرایا گیا۔
یہ ماضی کی ان روایات کے برعکس ہے جہاں وزیر اعلیٰ شہباز شریف غفلت یا پھر اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام پر ہی افسران کو فوری معطل کر دیتے تھے۔
ماڈل ٹاؤن میں ڈاکٹر قادری کی رہائش گاہ اور سیکریٹریٹ کے قریب ایک رہائشی نے بتایا کہ وہ ان دو جگہوں پر پچھلے تین سالوں سے خندقیں اور رکاوٹیں دیکھ رہے تھے جبکہ پولیس اہلکار بھی یہاں معمول کی نگرانی کرتے تھے۔
جائے وقوعہ پر موجود رہنے والے ایک پولیس ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ پہلے پی اے ٹی کے کارکنوں نے رکاوٹیں ہٹانے میں مزاحمت دکھاتے ہوئےسی ڈی جی ایل اور پولیس حکام پر پتھراؤ کیاجس کے بعد خندقوں میں موجود کارکنوں کی جانب سے ہوائی فائرنگ کی وجہ سے پولیس وہاں سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئی۔
ذرائع نے دعوی کیا کہ بعد میں ایک سینئر پولیس افسر کے حکم پر پولیس نے پی اے ٹی کارکنوں پر براہ راست فائرنگ کی۔
ذرائع کے مطابق اس موقع پرسات یا آٹھ ڈویژنل ایس پی متضادحکمت عملی اپناتے نظر آئے کچھ براہ راست فائرنگ پر توجہ دیئے ہوئے تھے تو کچھ نے دوسرے طریقوں سے کارکنوں کو منتشر کرنے پر زور دیا۔
سی سی پی او نے، جنہیں اب او ایس ڈی کو بنا دیا گیا، دعویٰ کیا ہے کہ منگل کی صبح منہاج القرآن انسٹیٹیوٹ کے چیف سیکورٹی افسر سے مذاکرات کے دو دور ہوئے تھے، جن میں ان سے رضاکارانہ طور پر رکاوٹیں ہٹانے کو کہا گیا۔
اس پر چھتوں اور خندقوں میں موجود پی اے ٹی کے کارکنوں نے پولیس اور سی ڈی جی ایل عملہ پر فائرنگ کر دی۔ سی سی پی او نے مزید دعویٰ کیا کہ کارکنوں نے پولیس کے خلاف پیٹرول بم بھی استعمال کیے تاہم پولیس نے ایسے میں صبر کا مظاہرہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پولیس کے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ سے سی ڈی جی ایل حکام کو رکاوٹیں ہٹانے میں مدد ملی۔
سی سی پی او احمد نے ابتدا میں دعویٰ کیا تھا کہ ہلاکتوں کی وجہ پی اے ٹی کارکنوں کی فائرنگ ہو سکتی ہے تاہم بعد میں انہوں نے کہا کہ وہ اس وقت یہ تعین کرنے سے قاصر ہیں کہ کس نے کس کو ہلاک کیا۔
'پولیس اورعدالت کی تحقیقات کی بعد ذمہ داروں کا تعین ہو سکے گا'۔
انسپکٹر جنرل پنجاب مشتاق سکھیرا نے بتایا کہ پولیس حکام کی مجرمانہ غفلت کا تعین کرنے کے لیے تین رکنی محکماتی کمیٹی بنا دی گئی ہے۔
ادھر، فیصل ٹاؤن پولیس نے جنرل سیکریٹری خرم نواز گنڈھا پور، شیخ فیاض اور سی ایس او الطاف شاہ سمیت سات نامزد ملزمان، آٹھ نامعلوم مسلح افراد اور سینکڑوں کو نامعلوم کارکنوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
جب آئی جی سے پوچھا گیا کہ پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کیوں نہیں کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ پی اے ٹی کے متاثرہ خاندانوں کی درخواستیں موصول ہونے کے بعد کارروائی کی جائے گی۔
پولیس نے جھڑپوں کے دوران پی اے ٹی کے 53 کارکنوں کو حراست میں لے لیا تھا۔ پولیس کا دعوی ہے کہ انہوں نے جائے وقوعہ سے دو کلاشنکوف، تین پستول اور 33 خالی خول قبضے میں لے لیے۔

No comments:
Post a Comment