Sunday, 22 June 2014

پاکستانی سپورٹس کار


پشاور : کراچی کی نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے طلباء کی تیار کردہ ایک اسپورٹس کار آج پشاور کے ایک مقامی ہوٹل میں متعارف کرا دی گئی ہے۔
اس گاڑی کو عام لوگ بھی دن 12 سے 9 بجے تک دیکھ سکیں گے۔
نسٹ کے مکینیکل انجنئیرنگ ڈیپارٹمنٹ کے ڈین ندیم احمد شہید کی شخصیت پر اسکا نام این اے ایس 14 رکھا گیا ہے اور اسے نو جولائی کو برطانیہ میں ہونے والے فارمولا اسٹوڈنٹ مقابلے کیلئے بھیجا جائے گا۔
یہ دنیا میں طالبعلموں کا سب سے مقبول کھیلوں کا مقابلہ ہے جس کا انعقاد انسٹیٹوٹ آف مکینیکل انجنئیرنگ کے زیرتحت ہوتا ہے۔
این اے ایس 14 کو ایک سال کی مدت میں تیار کرنے والی 29 رکنی ٹیم کے سربراہ شاہ طلحہ سہیل کا کہنا ہے کہ ایک نشست والی ریسنگ کار کا ڈیزائن بنانا اور تیاری انجنئیرنگ کے طالبعلموں کیلئے ایک بڑا چیلنج تھا۔
ان کے بقول درجنوں فارمولا اسٹوڈنٹس فارمولا ون ریسوں کے میدان میں آگے بڑھ رہے ہیں، جبکہ سینکڑوں دنیا کی بڑی گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں میں کام کررہے ہیں۔
برطانیہ میں شیڈول مقابلے میں گاڑی چلانے کیلئے تیار شاہ طلحہ سہیل کا مزید کہنا تھا کہ ان کی ٹیم پاکستان کا نام روشن کرنے کیلئے پرعزم ہے۔
ان کے مطابق وہ بے چینی سے اس مقابلے کا انتظار کررہے ہیں۔
'ہمیں توقع ہے کہ ہماری گاڑی بہترین کارکردگی دکھائے گی'۔
پشاور میں گاڑی کی نمائش کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم کو یہاں آنے کی دعوت دی گئی تھی جو کسی اعزاز سے کم نہیں۔
انھوں نے مزید بتایا کہ پاکستان کو 114 دیگر ٹیموں کیساتھ شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔
طلحہ سہیل کا کہنا تھا کہ اس مقابلے میں گاڑیوں کے ڈیزائن، ٹیکنالوجی، اعدادوشمار اور کاروباری پہلوﺅں کو مدنظر رکھ کا فیصلہ کیا جائے گا۔
ان کے بقول ' ہماری گاڑی ٹریک پر اترنے سے پہلے مختلف جیسے شور اور انجنئیرنگ ٹیسٹوں سے گزرے گی'۔
انھوں نے بتایا کہ آخری بار ان کی ٹیم 136 ٹیموں میں 84 ویں نمبر پر رہی تھی۔
ان کے مطابق ' ہم نے تین بار اس مقابلے میں حصہ لیا مگر تمام ٹیسٹ پاس کرنے میں ناکام رہے، رواں برس ہم ریس کا حصہ بننا چاہتے ہیں، ہر ٹیسٹ کا اسکور ٹیم کی پوزیشن کا تعین کرتا ہے اور ہمیں توقع ہے کہ ہماری ٹیم ٹریک پر آنے سے پہلے ہونے والے تینوں ٹیسٹ میں کامیاب رہے گی۔
انھوں نے بتایا کہ ٹیم پر بہت زیادہ دباﺅ ہے تاہم ہمیں زیادہ اسپانسر ملے ہیں، آخری بار ہمیں محسوس ہوا تھا کہ ہم زیادہ تیار نہیں، مگر اس بار ہم زیادہ تجربہ کار ہیں اور ہمارے پاس ایک اچھی گاڑی ہے۔
طلحہ سہیل کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کی کل لاگت 70 لاکھ روپے رہی۔

No comments:

Post a Comment